میرے بارے میں

ثروت کی شاعری میں آج کے زمانے کی ایسی عورت کی جستجو کا سراغ ملتا ہے جو کھلونے دے کر بہلائی نہیں جا سکتی۔ اس کی تکمیل اس وقت ممکن ہو سکے گی جب حاصل جستجو اس کی فکر اور احساس کو درست اور سچی لگے۔

ثروت زہرہ کی نظموں میں ایک تلاش ہے جو سچی اور کھری ہے۔ وہ ہمارے سماج کی ایک عورت بھی ہے اور ایک باشعور فرد بھی اور دونوں حیثیتوں سے وہ جھوٹ اور منافقت کو (اقرار) سمجھنے سے انکار کرتی ہے۔ اس کی شاعری میں ان گنت سوالات سر اْٹھاتے ہیں ثروت ذہرہ ان کے جوابوں کی کھوج میں اپنا شعری سفر طے کر رہی ہیں۔

فہمیدہ ریاض

 

آزاد پاکستان میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کی معتبر اور نمائندہ شاعرہ ثروت زہرہ کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کے ان کے شعری سفر کے آغاز ہی میں ان کے آنے والے درخشاں اور تابندہ مستقبل کی واضح اور بیّن نشانیاں ملنے لگتی ہیں۔ نوواردانِ شہر سخن میں اکثر شعراء اوّل اوّل ’رمان کی انگلی تھامے ہجر ووصال کے لمحوں کی کہانیاں سناتے نظر آتے ہیں , مگر ثروت زہرہ نے محبت کی سرمدی حقیقتوں کا اعتراف کرتے ہوئے بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی ناہموار زندگی اور عالمی منظرنامے کی انسانیت ’دشمن فضا کے خلاف آواز بلند کرنے کو اپنی ترجیحاتِ ادب میں شامل کیا ہے۔ وہ جانتی ہیں کے آفاقی قدروں اور انسانی رشتوں شکست و ریخت اور تاراجی و پامالی کے اسباب کیا ہیں۔ خلقِ خدا کو اگر اپنے اطراف پھلی ہوئی بدصورتی کو برداشت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور حسن اور نیکی اور خیر کی سچائیوں پر انسان کے یقین کو متزلزل کیا جا رہا ہے تو ثروت زہرہ کا دل اور آنکھیں اور مصرے پوری وجودی سچائیوں کے ساتھ حزن و ملال اور دردواندوہ سے چھلکنے لگتے ہیں۔ اضطراب اور بے چینی کے مابین ناہموار راستوں پر چلنا بہت مشکل کام ہے مگر ثروت زہرہ نے جذباتیت اور سطحیت سے بلند ہوکر اور شعری جمالیات کے تمام تقاضوں کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے تخلیقی جوہر کا بہت قوت کے ساتھ اظھار کیا ہے۔ ان کی شاعری میں موضوعات اور اسالیب کا ایسا تنّوع ہے جو دوسری جگہ بہت کم نظر آتا ہے۔ ثروت کی شاعری پڑھنے والے اگر مستقبل کے لئے اس سے بڑی شاعری کا مطالبہ کریں تو یہ کچھ بے جا بھی نہیں ہوگا۔۔۔

افتخار عارف

 

 

 

 

 


آپکی راء
متحرک عکس
آواز
تصاویر
کتابیں
تقریبات
تازہ شاعری
تعارف