تعارف

کبھی کبھی الفاظ اپنے پورے وجود کے ساتھ دھڑکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ایسے کے ان کی خوشبو ذہن کی پوروں میں اتر جاتی ہے ان میں رکھا ہوا دل نبضوں میں دھڑکتا ہے، پس لفظ چُھپے ہوئے نوحے اور سر شاریاںیوں محسوس ہوتی ہیں کہ انہیں ایک عالم کے پورے اور ادھورے عکس دکھائی دینے لگتے ہیں۔اردو شاعری میں ایسی ہی ایک مثال ثروت زہرا نے قائم کی ہے،وہ کراچی میں پیدا ہوئیں اور یہیں سے اپنی تعلیم مکمل کی،اسی شہر سے بطور شاعرہ انہیں پہچان ملی۔پیشے کے اعتبار سے وہ ڈاکٹر اور شاعری ان کی فطرت میں شامل ہے جو انہیں ورثے میں ملی۔انکے والد کاظم عباس زیدی بھی شاعر ہیں،انہوں نے کچھ عرصے تک پی ٹی وی میں بطور نیوز کاسٹر فرائض سرانجام دیئے،اسی دوران انکی شادی ہوئی،انکے شوہر آغا پیر محمدالیکٹرک میڈیا سے وابسطہ ہیں جو خود بھی ایک ادیب اور شاعر ہیں۔ثروت کے دو بچے ہیں،متحدہ عرب امارات منتقل ہونے سے قبل وہ کچھ عرصہ اسلام آباد میں مقیم رہیں،ادھر کے ادبی حلقوں کی جانب سے انہیں بھرپور پذیرائی حاصل رہی۔۲۰۰۳ میں انکی کتاب جلتی ہوا کا گیت اکادمی ادبیات کے زِیر اہتمام شائع ہوئی،۱۶۰ صفحات پر مشتمل یہ کتاب نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے جسکا انتساب انہوں نے اپنے شریکِ زندگی اور والدین کے نام لکھا ہے۔ان کے ہاں مجرد تصورات (Abstract Conceptions) کوجس آسانی سے بیان کیا جاتا ہیان کی اِس خوبی نے اُنہیں منفردمقام دیا۔سائے کا اِضطراب اس دعویٰ کی ایک خوبصورت دلیل ہے۔
سائے کا اضطراب
آج تم تک پہنچ کر
تمہاری آنکھوں کے آئینوں میں جھانک کر
خود کو ٹٹولا تو معلوم ہوا
میرا جسم تو تم تک آتے آتے
کہیں بیچ رستے میں گم ہو گیا تھا


آپکی راء
متحرک عکس
آواز
تصاویر
کتابیں
تقریبات
تازہ شاعری
میرے بارے میں